سیاسی فریضہ

سیاسی فریضہ: Political Obligation

تعارف

سیاسی فریضہ (Political Obligation) اور سیاسی جواز (Political Legitimacy) کا مطلب یہ ہے کہ لوگ قانون کی پابندی کیوں کریں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ قانون ہے، یا اس کے پیچھے کوئی اخلاقی ذمہ داری بھی ہے؟یہ سوال اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ ایک طرف فرد کی آزادی ہے اور دوسری طرف حکومت کا اختیار۔ کیا شہری قانون مانتے ہیں صرف سزا کے ڈر سے یا فائدے کے لیے، یا پھر واقعی ان پر اخلاقی فرض بھی ہے کہ وہ قانون کی اطاعت کریں؟سیاسی فریضہ سیاسی نظریے کا ایک اہم اور مشکل موضوع ہے، جو اخلاقیات، قانون، جمہوریت اور حکومت کے عملی نظام سے جڑا ہوا ہے۔

سیاسی ذمہ داری کی تصوراتی تعریف اور ضروری خصوصیات (Conceptual Definition and Essential Features of Political Obligation)

سیاسی فریضہ کی تعریف اور خصوصیات:

سیاسی فریضہ سے مراد یہ ہے کہ شہریوں پر اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ریاست کے قوانین اور اداروں کی پابندی کریں۔ یہ صرف سزا کے ڈر یا زبردستی کی وجہ سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے ایک اصولی اور اخلاقی سوچ ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شہری قانون کو اس لیے مانتے ہیں کہ یہ ان کا فرض ہے، چاہے سزا دینے والا کوئی موجود ہو یا نہ ہو۔ یوں سیاسی فریضہ صرف بیرونی دباؤ نہیں بلکہ ایک اندرونی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

:سیاسی فریضے کے نظریاتی ڈھانچے کی تین نمایاں خصوصیات ہیں جو اسے دیگر اخلاقی ذمہ داریوں سے الگ کرتے ہیں

٭                            مضمون سے آزادی (کنٹینٹ انڈیپنڈنس) 
شہریوں کو قوانین کی پابندی اس لیے کرنی چاہیے کہ وہ قانون ہیں، نہ کہ اس لیے کہ وہ اچھے یا برے لگتے ہیں۔ یعنی صرف یہ حقیقت کہ کوئی بات قانونی طور پر ضروری ہے، اطاعت کے لیے کافی اخلاقی وجہ بن جاتی ہے، چاہے کوئی شخص اس سے متفق نہ بھی ہو۔ جوزف ریز کے مطابق، حکومت یا قانون کا اختیار ایسے خاص دلائل فراہم کرتا ہے جنہیں “اخراجی اسباب” کہا جاتا ہے۔ ان دلائل کی وجہ سے لوگ بعض اوقات اپنی ذاتی اخلاقی وجوہات کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور قانون کو مانتے ہیں۔

٭                    عمومیت (جنرلٹی)

سیاسی فریضہ سب لوگوں اور سب قوانین پر اطلاق ہوتا ہے۔ یہ صرف چند افراد یا خاص قوانین کے لیے نہیں ہے۔ اسی لیے اسے ایک عام اخلاقی ذمہ داری کہا جاتا ہے۔ مثلاً اگر ٹریفک کا قانون ہے کہ سرخ بتی پر رکنا ہے، تو یہ اصول سب پر لاگو ہوگا — امیر، غریب، عام آدمی یا وزیر سب پر۔

٭                           خصوصیت (پارٹیکولرٹی)

سیاسی ذمہ داریاں خاص طور پر اپنے ملک اور اپنی حکومت کے لیے ہوتی ہیں، نہ کہ پوری انسانیت یا دوسرے ملکوں کے لیے۔ اسی وجہ سے شہری اپنے ملک کی حکومت کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، لیکن وہ دنیا کے دوسرے ملکوں کی حکومتوں کے لیے ایسی ذمہ داری نہیں رکھتے، چاہے وہاں کا نظام حکومت زیادہ انصاف پر مبنی ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً ہندوستان کے شہری ہندوستانی قوانین ماننے کے پابند ہیں، لیکن انہیں امریکہ یا جاپان کے قوانین پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ان کی ذمہ داری صرف اپنے ملک کے سیاسی نظام کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

ایچ۔ایل۔ہارٹ کا نقطہ نظر

ایچ۔ایل۔ہارٹ نے کہا کہ قانونی فریضہ صرف عادت یا ڈر (جبر) سے الگ چیز ہے۔ یعنی لوگ قانون کی پابندی صرف اس لیے نہیں کرتے کہ سب ایسا کر رہے ہیں (عادت) یا پولیس سزا دے گی (جبر) بلکہ اس کے پیچھے کسی بھی سماج میں کچھ سماجی اصول اور قواعد ہوتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ لوگوں کو کیسے رویہ کرنا چاہیے۔ جب لوگ ان اصولوں کو صرف عمل کی تکرار کے طور پر نہیں بلکہ اصولی طور پر درست اور لازمی سمجھ کر مانتے ہیں، تو یہ ایک حقیقی ذمہ داری (ریل آبلیگیشن) بن جاتی ہے۔ اس کو ہارٹ نے اندرونی پہلو (انٹرنل ایسپیکٹ) کہا۔

جیسا کہ اگر سب لوگ ٹریفک سگنل پر رک جائیں صرف اس لیے کہ پولیس جرمانہ کرے گی، تو یہ جبر ہے۔ لیکن اگر لوگ یہ سمجھ کر رکیں کہ “یہ قانون درست ہے اور اس سے سب کی حفاظت ہوتی ہے”، تو یہ قانونی ذمہ داری ہے جسے ہارٹ نے بیان کیا۔

سیاسی فریضہ کی تاریخی ارتقا اور کلاسیکی بنیادیں

سیاسی فریضے (پولیٹیکل آبلیگیشن) کا خیال بہت پرانا ہے اور اس کی جڑیں قدیم یونان تک ملتی ہیں۔ جیسا کہ سوفوکلیز کے ڈرامہ انٹیگون میں یہ دکھایا گیا کہ الٰہی قانون اور انسانی اختیار میں ٹکراؤ پیدا ہو سکتا ہے۔کریٹو مکالمہ – افلاطون کی اس کتاب میں سقراط نے بتایا کہ شہریوں پر ریاست کے قوانین ماننے کی ذمہ داری ہوتی ہے، کیونکہ وہ ریاست کے ساتھ رضامندی اور شکرگزاری کے رشتے میں جڑے ہوتے ہیں۔بعد میں، سترہویں اور اٹھارویں صدی میں سماجی معاہدے (سوشل کنٹریکٹ) کے نظریے کے تحت اس موضوع پر باقاعدہ اور منظم بحث شروع ہوئی۔

سیاسی ذمہ داری کا تاریخی ارتقاء(Historical Evolution of Political Obligation)    

تھامس ہابز نے اپنی کتاب لیویاتھن (1651) میں سیاسی فریضے کا پہلا مکمل اور جدید نظریہ پیش کیا۔ہابز کے مطابق، انسان اپنی فطری حالت (State of Nature) میں آزاد تو ہوتا ہے، مگر وہاں کوئی قانون نہیں ہوتا، اس لیے ہر وقتخوف اور جنگ کا خطرہ رہتا ہے۔اس لاقانونیت  (بے ترتیبی) سے بچنے کے لیے انسان اپنی آزادیوںکو ایک طاقتور حاکم(Sovereign) کو سونپ دیتا ہے۔اس معاہدے کے بعد، حکومت کے احکامات ماننا ایک مطلق اور لازمی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ہابز کے نزدیک، یہ ذمہ داری ضروری ہے تاکہ معاشرہامن قائم رکھ سکے اور لوگ “ہر ایک کا ہر ایک کے خلاف جنگ” والی حالت میں واپس نہ جائیں۔

 جان لاک نے اپنی کتاب “دوسرا مقالہ حکومت” (1689) میں سیاسی فریضے کا الگ نظریہ دیا۔ان کےمطابق، انسان کے کچھ فطری حقوق ہوتے ہیں جیسے:

1.    جان Life)

2.    آزادی (Liberty)

3.    ملکیت (Property)

حکومت کا سب سے بڑا کام ان حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔اگر حکومت ان حقوق کا تحفظ کرتی ہے تو شہریوں پر لازم ہے کہ وہ اس کی اطاعت کریں۔لیکن اگر حکومت ان حقوق کو پامال کرے تو عوام کو حکومت کو بدلنے یا ہٹانے کا حق حاصل ہے۔

جان لاک کے مطابق:
اگر حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت نہ کرے، یا وہ ظالم (Tyrannical) بن کر ان کے حقوق (جان، آزادی اور ملکیت) چھین نے لگے، تو شہریوں کو حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے اور اس کو بدلنے کا حق حاصل ہے۔فرق یہ ہے کہ ہابز حکومت کی اطاعت کو ہمیشہ لازمی سمجھتے تھے، جبکہ لاک کے نزدیک اطاعت حکومت کے صحیح اور منصفانہ ہونے پر منحصر ہے۔

جان لاک کا رضامندی پر مبنی نظریہ

٭                           حکومت کی طاقت صرف اسی وقت جائز ہے جب عوام اس پر راضی ہوں۔

٭                          اگر حکومت معاہدہ عمرانی توڑ دے اور عوام کے حقوق کی حفاظت نہ کرے، تو پھر عوام پر اس کی اطاعت کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

سادہ الفاظ میں حکومت کا اصل کام لوگوں کے بنیادی حقوق (جان، آزادی اور جائیداد) کی حفاظت کرنا ہے۔ اگر حکومت یہ ذمہ داری پوری نہ کرے یا ظالم بن جائے، تو لوگ اس کی اطاعت کرنے کے پابند نہیں رہتے۔ حکومت کی طاقت عوام کی رضامندی سے ملتی ہے۔ اگر حکومت عوام کی رضامندی توڑ دے، تو عوام پر بھی اس کی اطاعت لازم نہیں رہتی۔ شہری ایک طرح سے حاکم بھی ہیں (کیونکہ وہ قانون بناتے ہیں) اور محکوم بھی ہیں (کیونکہ وہی قوانین پر عمل کرتے ہیں)۔

روسو کا عمومی مرضی کا نظریہ

ژاں ژاک روسو نے اپنی کتاب سوشل کنٹریکٹ (1762) میں سیاسی ذمہ داری کا ایک نیا نظریہ دیا جسے “جنرل وِل” کہا گیا۔ ان کے مطابق، حقیقی سیاسی ذمہ داری تب پیدا ہوتی ہے جب قوانین صرف ذاتی مفاد کے لیے نہ ہوں، بلکہ سب کی بھلائی (کلیکٹو گڈ) کے لیے بنائے جائیں۔ یعنی شہریوں کو حکومت کی اطاعت تب کرنی چاہیے جب قوانین سماجی بھلائی کی نمائندگی کریں۔

روسو کے نزدیک حکومت اور قوانین کی طاقت سب کے مفاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ کسی ایک شخص یا گروہ کے فائدے کے لیے۔

روسو کے مطابق:

1.    جب قوانین سب کے مفاد میں بنائے جائیں، تو ان کی اطاعت حقیقی خودمختاری (Self-Governance) ہے،یعنی یہ اطاعت کسی بیرونی طاقت کے سامنے سر جھکانے جیسی نہیں۔

2.    شہری ایک ہی وقت میں حاکم (Sovereign) بھی ہیں (کیونکہ وہ قانون بناتے ہیں) اور محکوم (Subject) بھیہیں (کیونکہ وہ ان قوانین پر عمل کرتے ہیں)۔

3.    اس نظریے کا مقصد یہ ہے کہ شہری اپنی ذاتی آزادی (Individual Autonomy) اور سیاسی ذمہ داری (Political Obligation) کو ایک ساتھ سمجھیں اور قوانین کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ روسو کے نزدیک، جب لوگ خود اپنے لیے قانون بناتے اور اس پر عمل کرتے ہیں، تو وہ حقیقی آزاد اور ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔

روسو کہتے ہیں کہ اصلی سیاسی وفاداری تب پیدا ہوتی ہے جب قوانین سب کے فائدے کے لیے بنائے جائیں، نہ کہ صرف کچھ لوگوں کے ذاتی فائدے کے لیے۔ جب ہم ایسے قوانین کی پابندی کرتے ہیں، تو یہ کسی اور کے حکم کے آگے سر جھکانا نہیں بلکہ اپنی ہی حکمرانی ہے۔ شہری ایک ساتھ حاکم بھی ہیں (کیونکہ وہ قوانین بناتے ہیں) اور محکوم بھی ہیں (کیونکہ وہ انہی قوانین پر عمل کرتے ہیں)۔ اس لیے قوانین کی پابندی دراصل ہماری اپنی اجتماعی مرضی کی عکاسی کرتی ہے اور ہماری آزادی کو برقرار رکھتی ہے۔

روسو کے نزدیک، جب لوگ خود سب کے لیے قانون بنائیں اور اس پر عمل کریں، تو وہ نہ صرف ذمہ دار شہری ہیں، بلکہ حقیقی طور پر آزاد بھی ہیں۔

سیاسی ذمہ داری کا عصری نظریاتی فریم ورک(Contemporary Theoretical Framework of Political Obligation):

جدید دور میں سیاسی فریضے کی نظریاتی بحث چار بڑے رجحانات میں تقسیم ہو چکی ہے، جن میں سے ہر ایک شہریوں کے قانونی اختیار کی اطاعت کے ذرائع اور دائرہ کار کو مختلف زاویے سے بیان کرتا ہے

نظریات کے رضامندی(Consent Theories): رضامندی کے نظریات کے مطابق، سیاسی فریضے اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کوئی شخص اپنی مرضی سے حکومت کی اطاعت پر آمادہ ہو۔ یہ رضامندی واضح (Explicit) ہو سکتی ہے، جیسے حلف لینا، شہریت اختیار کرنا، یا ووٹ ڈالنا یا خاموش(Tacit) ، جیسے کسی ملک میں رہائش برقرار رکھنا، ریاستی سہولتیں قبول کرنا، یا سیاسی عمل میں حصہ لینا۔ یہ نقطہ نظر فرد کی خود مختاری کو برقرار رکھتا ہے کیونکہ اطاعت کو ذاتی انتخاب پر مبنی قرار دیا ہے، لیکن ایک بنیادی مسئلے کا سامنا کرتا ہے: عملی طور پر بہت کم لوگ اس قسم کی واضح، باخبر رضامندی دیتے ہیں جو اخلاقی طور پر لازم فریضہ پیدا کرنے کے لیے ضروری ہو۔ رضامندی کے نظریے کے مطابق، سیاسی ذمہ داری تب پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص اپنی مرضی سے حکومت کی اطاعت پر راضی ہو۔یہ رضامندی دو طرح کی ہو سکتی ہے

1.    واضح (Explicit): جیسے حلف لینا، شہریت لینا، یا ووٹ ڈالنا۔

2.    خاموش (Tacit): جیسے کسی ملک میں رہنا، ریاستی سہولتیں استعمال کرنا، یا سیاسی عمل میں حصہ لینا۔

اس نظریے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ فرد کی آزادی اور انتخاب کو اہمیت دیتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ عملی طور پر بہت کم لوگ واضح اور باخبر رضامندی دیتے ہیں، جو اخلاقی طور پر ذمہ داری کے لیے ضروری ہے۔ یہ نظریہ کہتا ہے کہ حکومت کی اطاعت تبھی اخلاقی اور جائز ہے جب شہری خود رضامند ہوں، لیکن روزمرہ زندگی میں ایسا ہونا مشکل ہے۔

جدید مفکرین جیسے ہیری بیرن کہتے ہیں کہ مسئلے کا حل یہ ہے کہ حکومتیں شہریوں کو واضح طریقے دیں تاکہ وہ رضامندی یا انکار ظاہر کر سکیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر موجودہ حکومتیں یہ سہولتیں فراہم نہیں کرتیں۔ اسی وجہ سے جان سمنز اسے “فلسفیانہ لاقانونیت پسندی” کہتے ہیں، یعنی

o نظریاتی طور پر، رضامندی کی بنیاد پر سیاسی ذمہ داری ممکن ہے،

o مگر عملی طور پر، آج کی زیادہ تر ریاستیں اپنے شہریوں پر مکمل جائز اختیار نہیں رکھتیں۔

منصفانہ کھیل کے نظریات ( Fair Play Theories )

منصفانہ کھیل کے نظریات، جنہیں سب سے پہلے ایچ۔ایل۔اے۔ ہارٹ نے پیش کیا اور بعد میں جارج کلوسکو جیسے مفکرین نے مزید ترقی دیمنصفانہ کھیل کے نظریے کے مطابق، سیاسی ذمہ داری باہمی تعاون (Reciprocity) پر مبنی ہے۔یعنی اگر لوگ معاشرتی نظام سے فائدہ اٹھائیں، جیسے کہ سلامتی ، بنیادی ڈھانچہ ، تعلیم، قانونی تحفظ تو ان کا انصاف کے تقاضے کے مطابق یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ یہ ذمہ داری ظاہر ہوتی ہے قوانین کی پابندی اور شہری شمولیت کے ذریعے۔ ریاست کو ایک ایسا نظام سمجھا جاتا
ہے جو سب کے فائدے کے لیے تعاون پر مبنی ہے۔ اگر کوئی شخص فوائد لے لیکن ذمہ داری نہ ادا کرے (Free Riding)، تو یہ انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔منصفانہ کھیل کا نظریہ کہتا ہے کہ اگر آپ سماج سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو آپ کی ذمہ داری ہے کہ قوانین مانیں اور تعاون کریں، ورنہ یہ غیر منصفانہ ہوگا۔” تاہم، منصفانہ کھیل کے نظریات کو “غیر رضاکارانہ فوائد” کے مسئلے کا سامنا ہے۔ رابرٹ نوزک کی مشہور تنقید کے مطابق، غیر درخواست شدہ فوائد حاصل کرنے سے لازمی ذمہ داریاں پیدا نہیں ہوتیں بالکل اسی طرح جیسے اگر آپ کے پڑوسی بغیر پوچھے تفریح فراہم کریں تو انہیں آپ سے ادائیگی کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں۔ کلوسکو اس کے جواب میں مختلف قسم کے فوائد میں فرق کرتے ہیں اور دلیل دیتے ہیں کہ کچھ “فطری طور پر فائدہ مند ” Beneficial) (Presumptively اشیاء جیسے سلامتی انسان کی فلاح و بہبود کے لیے اس قدر بنیادی ہیں کہ ان کی فراہمی لازماً منصفانہ کھیل کی ذمہ داریاں پیدا کرتی ہے، چاہے ان کے لیے صریح رضامندی نہ دی گئی ہو۔

قد رتی کے فریضے نظریات (Natural Duty Theories)

جان رولز نے قدرتی فریضے کا سب سے منظم نظریہ پیش کیا۔ان کے مطابق ہر شخص پر یہ قدرتی فریضہ ہے کہ وہ منصفانہ اداروں کی حمایت اور قوانین کی پابندی کرے جو ان پر لاگو ہوتے ہیں۔یہ فریضہ قدرتی ہے کیونکہ ہر شخص پر لاگو ہوتا ہے، چاہے اس نے کبھی رضامندی ظاہر کی ہو یا نہیں۔ رولز نے کہا کہ یہ ادارے انصاف کے اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں، جو لوگوں نے “اصل پوزیشن ” اور “جہالت کے پردے ” کے پیچھے سوچ کر منتخب کیے ہوں۔ اس نظریے میں سیاسی فریضہ صرف کسی رسمی جواز یا رضاکارانہ معاہدے پر نہیں بلکہ انصاف پر مبنی مواد پر مبنی ہے۔ رولز کے نزدیک، شہریوں کی سیاسی ذمہ داری انصاف پر مبنی منصفانہ اداروں کی حمایت کرنے میں ہے، اور یہ ہر شخص پر لازمی ہے، چاہے اس نے کبھی رضامندی ظاہر کی ہو یا نہیں۔

 مسئلہ یہ ہے کہ  قدرتی فریضے کے نظریے کے مطابق شہریوں کی اخلاقی ذمہ داریاں سب کے لیے یکساں ہوتی ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ذمہ داریاں عالمی ہیں، تو شہریوں کو اپنی ریاست کے لیے خاص فرائض کیوں ادا کرنے چاہییں، بجائے اس کے کہ وہ زیادہ منصفانہ غیر ملکی حکومتوں یا بین الاقوامی اداروں کے لیے کام کریں؟ ناقدین کہتے ہیں کہ قدرتی فریضے نظریہ سیاسی فریضے کے خاص “سیاسی” پہلو یعنی شہری ہونے اور ریاست کے ساتھ تعلق کو پوری طرح واضح نہیں کر پاتا۔ قدرتی فریضے ہر جگہ کے لوگوں پر یکساں ذمہ داری عائد کرتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کرتا کہ شہری اپنی اپنی ریاست کے لیے کیوں خاص فرائض ادا کریں۔

(Associative Theories)نظریات کے انجمنیت

انجمنیت کے نظریات، جنہیں رونالڈ ڈورکِن، مارگریٹ گلبرٹ، اور جان ہارٹن جیسے فلسفیوں نے پیش کیا،اس نظریہ کے مطابق سیاسی فرائض یا ذمہ داریاں صرف اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ آپ کسی سیاسی برادری یعنی ملک یا کمیونٹی کے رکن ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے آپ        یعنی، صرف شہری ہونا ہی آپ پر اپنے ہم وطنوں کے لیے کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، اور یہ ذمہ داریاں کسی کی رضامندی، منصفانہ کھیل یا فطری فرائض پر مبنی نہیں ہوتیں، بلکہ صرف برادری کا حصہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔  خاندان یا دوستوں کے ساتھ تعلقات میں کچھ خاص ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔

جان ہارٹن کے اثر انگیز انجمنیت کے نظریے میں دو بنیادی دعوے شامل ہیں جس کا  مطلب یہ ہے:

٭                            سیاسی ذمہ داریاں صرف اس لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آپ کسی ریاست یا ملک کے شہری ہیں۔

٭                                            ریاست ایک ایسی کمیونٹی ہے جو اپنے شہریوں کو امن، نظم و ضبط اور سلامتی دیگر اجتماعی فوائد فراہم کرتی ہے۔

 ہارٹن کہتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ فطری طور پر اپنے ملک یا ریاست سے جڑے ہوتے ہیں، اور اس تعلق کی وجہ سے انہیں وہ ذمہ داریاں حاصل ہوتی ہیں جو ریاست کے ذریعے سب کے فائدے کے لیے ضروری ہیں۔  

  (Contemporary challenges & Criticism)تنقیدات اور چیلنجز عصری 

    (Philosophical Anarchism) لاقانونیت فلسفیانہ 

سیاسی ذمہ داری کے خیال کو سب سے بڑا چیلنج فلسفیانہ  لا قانونیت پسند(اینارکسٹس)  دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ شہریوں پر سیاسی یا قانونی ذمہ داری عائد کرنے کا کوئی مکمل یا منطقی نظریہ نہیں بنایا جا سکتا۔ رابرٹ پال وولف اور جان اے سمنز جیسے مفکرین کے مطابق، موجودہ نظریات یہ سمجھانے میں ناکام ہیں کہ شہریوں کو قوانین کی اطاعت کرنا واقعی اخلاقی طور پر کیوں ضروری ہے، بجائے اس کے کہ وہ صرف اپنی فائدہ یا سزا کے خوف کی وجہ سے قانون مانیں۔

رابرٹ پال وولف نے اپنی کتاب ن ڈیفنس آف اینارکزم                  میں دلیل دی کہ سیاسی ذمہ داری یا حکومتی اختیار نظریاتی طور پر ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ اخلاقی خود مختاری (مورل آٹونومی) کے خلاف ہے۔ اخلاقی خود مختاری کا مطلب ہے کہ ہر شخص کو اپنے اعمال کو اپنی اپنی سوچ اور صحیح و غلط کے فیصلے کے مطابق کرنا چاہیے۔جب کہ سیاسی اختیار یا حکومت کے احکامات میں اطاعت کا تقاضا ہوتا ہے، چاہے وہ صحیح ہو یا غلط۔ لہٰذا، رابرٹ پال وولف کے مطابق، جائز سیاسی اختیار ایک منطقی تضاد ہے، جیسے “شادی شدہ کنوارہ” یا “گول چوکور” — یعنی ایسا کچھ جو اصل میں ممکن نہیں۔

جان اے سمنز کہتے ہیں:وہ ایک معتدل فلسفیانہ لا قانونیت پسند ہیں۔ان کے مطابق، نظریاتی طور پر سیاسی ذمہ داری ممکن ہے، لیکن آج کی زیادہ تر ریاستیں اپنے شہریوں پر واقعی جائز اختیار نہیں رکھتیں۔انہوں نے دو اہم چیزوں میں فرق کیا ہے کہ ریاست کا جواز  (سٹیٹ جسٹیفکیشن) مطلب یہ دکھانا کہ ریاست کا ہونا نہ ہونے سے بہتر ہے۔کسی مخصوص ریاست کی قانونی حیثیت (پارٹیکولر سٹیٹ لیجٹیمیسی) یہ دکھانا کہ کوئی خاص ریاست اپنے شہریوں پر حکومت کرنے کا حق رکھتی ہے۔

سِمنز کے مطابق، ریاست کا عمومی جواز ممکن ہے، لیکن کسی مخصوص ریاست کی جائز حیثیت کے لیے شہریوں کی حقیقی رضامندی ضروری ہے، اور یہ زیادہ تر موجودہ ریاستوں میں نہیں ہوتی۔

     (Civil Disobedience and Resistance)سول   نافرمانی   اورمزاحمت

 سیاسی فریضے اور سول نافرمانی کا تعلق شہری ذمہ داری کی حدود اور شرائط کو واضح کرتا ہے۔

ہنری ڈیوڈ تھورونے اپنے مضمون “سِول ڈِس آبِیڈِینس” (1849) میں کہا کہ ہر شخص کی ضمیر اور اخلاقی فیصلہ سب سے اہم ہے۔اگر حکومت غلامی یا جارحانہ جنگ   جیسے ظلم کرتی ہے ، تو باشعور شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے۔ایسا کرنے سے بہتر ہے کہ وہ سزا یا قید قبول کرے، لیکن ظلم میں شامل نہ ہو۔

جدید نظریات برائے سول نافرمانی، جو مہاتما گاندھی اورمارٹن لوتھر کنگ سے متاثر ہیں، دو چیزوں میں فرق کرتے ہیں:

ا-                                               ضمیر پر مبنی انکار: یعنی کسی ظالمانہ قانون کی خاموشی یا اندر سے مخالفت کرنا، بغیر عوامی مظاہرے کے۔

ب-                                              سول نافرمانی: یعنی عوامی طور پر قانون توڑ کر اخلاقی احتجاج کرنا اور جمہوری گفتگو کو فروغ دینا۔

یہ نظریہ سیاسی ذمہ داری کو تسلیم کرتا ہے، لیکن اگر کوئی شدید ناانصافی ہو تو اعلیٰ اخلاقی ذمہ داریاں سیاسی فرائض سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔

(Feminist and Care Ethics Critiques)نسوانی تنقید اور نگہداشت کی  اخلاقیات  

نسوانی نقاد  نے روایتی سیاسی فریضے کے نظریات پر کئی بنیادوں پر تنقید کی ہے۔ نگہداشت کی اخلاقیات (کیئر ایتھکس)  کے مفکرین کا کہنا ہے کہ روایتی سیاسی نظریات زیادہ تر انصاف، حقوق اور فرائض جیسے عام اصولوں پر زور دیتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی کے تعلقات، ایک دوسرے پر انحصار اور دیکھ بھال کو نظرانداز کرتے ہیں۔ان کے مطابق، سیاسی ذمہ داریاں ہمیں دوبارہ اس بنیاد پر سوچنی چاہئیں کہ ہم ایک دوسرے کی دیکھ بھال اور باہمی تعلقات کے میل جول  کو کیسے جڑسکتے ہیں ، نہ کہ صرف فرد کی رضامندی یا مجرد اخلاقی اصولوں کی بنیاد پر۔

نسوانی مفکرین کہتے ہیں کہ روایتی سیاسی نظریات اکثر پدرشاہی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، کیونکہ یہ مردوں کے غلبے والے اداروں کو جائز سمجھتے ہیں اور صنف کی بنیاد پر سیاسی شمولیت یا اخراج کے مسائل کو نظرانداز کرتے ہیں۔ان کے مطابق، سیاسی نظریات کو زیادہ سیاق و سباق (کونٹیکسچوئل) اور تعلقات پر مبنی (ریلیشنل) ہونا چاہیے، یعنی طاقت کے توازن، سماجی حیثیت اور محروم طبقات کے تجربات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

(Democratic Theory and Legitimacy)نظریہ جمہوری اور جواز

سیاسی ذمہ داری جمہوری جواز اور اکثریتی فیصلوں سے جڑی ہوئی ہے۔ جمہوری مفکرین کہتے ہیں کہ جمہوریت شہریوں کو اپنے ملک کے فیصلوں میں شامل ہونے کا موقع دیتی ہے، اور اسی ذریعے شہریوں پر سیاسی ذمہ داریاں بنتی ہیں۔لیکن اس سے ایک اہم سوال اٹھتا ہے: جمہوری اختیار کی حدود اور حدِ اثر کہاں تک ہیں؟ یعنی شہری کس حد تک اپنے فیصلوں اور ذمہ داریوں میں شریک ہو سکتے ہیں؟

اگر شہریوں کا سیاسی فرض صرف جمہوری طور پر بنائے گئے قوانین کی پابندی کرنا ہے، تو مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اکثریت ایسی پالیسیاں بنائے جو اقلیت کے حقوق یا بنیادی اخلاقی اصولوں کے خلاف ہوں، تو کیا ہوگا؟

اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ تجاویز ہیں:

٭                                                                آئینی پابندیاں: قوانین میں ایسے اصول شامل ہوں جو بنیادی حقوق کی حفاظت کریں۔

٭                                        اخلاقی غوروفکر کو فروغ دینے والے جمہوری طریقے: فیصلے کرنے سے پہلے اخلاقی پہلوؤں پر سوچنا ضروری ہو۔

٭                         عوامی دلیل (پبلک ریزن): جمہوری فیصلے صرف ان دلائل کی بنیاد پر ہوں جو سب کے سامنے منطقی اور قابلِ قبول ہوں۔

سرحدوں کا مسئلہ جمہوری نظریات کو مشکل بنا دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ “عوام” سے مراد کون ہے، جن کی خود حکمرانی شہریوں پر سیاسی ذمہ داریاں پیدا کرتی ہے؟ یہ مسئلہ خاص طور پر ہجرت، متنازعہ علاقوں، اور بین الاقوامی یا مافوقِ قومی  حکمرانی میں بڑھ جاتا ہے، جہاں سیاسی برادریوں کی سرحدیں متنازع یا ایک دوسرے پر ملی ہوئی ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں

References

  • Adams, N. P., 2017. “In Defense of Content-Independence,” Legal Theory, 23: 143–167.
  • Arneson, Richard, 1982. “The Principle of Fairness and Free-Rider Problems,” Ethics, 92: 616–33.
  • Bell, Nora K., 1978. “Nozick and the Principle of Fairness,” Social Theory and Practice, 5: 65–73.
  • Beran, Harry, 1987. The Consent Theory of Political Obligation, London: Croom Helm.
  • Besson, Samantha, 2005. The Morality of Conflict: Reasonable Disagreement and the Law, Oxford: Hart Publishing.
  • Brandt, Richard, 1964. “The Concepts of Obligation and Duty,” Mind, 73: 374–93.
  • Carr, Craig, 2002. “Fairness and Political Obligation,” Social Theory and Practice, 28: 1–28.
  • Christiano, Thomas, 2008. The Constitution of Equality: Democratic Authority and Its Limits, Oxford: Oxford University Press.
  • Dagger, Richard, 1997. Civic Virtues: Rights, Citizenship, and Republican Liberalism, New York: Oxford University Press.
  • –––, 2000. “Membership, Fair Play, and Political Obligation,” Political Studies, 48: 104–17.
  • –––, 2018. Playing Fair: Political Obligation and the Problem of Punishment, New York: Oxford University Press.
  • DeLue, Stephen, 1989. Political Obligation in a Liberal State, Albany, NY: State University of New York Press.
  • D’Entrèves, A. P., 1939. The Medieval Contribution to Political Thought, Oxford: Oxford University Press.
  • Durning, Patrick, 2003. “Two Problems with Deriving a Duty to Obey the Law from the Principle of Fairness,” Public Affairs Quarterly, 17: 253–64.
  • Dworkin, Ronald, 1977. Taking Rights Seriously, Cambridge, MA: Harvard University Press.
  • –––, 1986. Law’s Empire, Cambridge, MA: Harvard University Press.
  • Edmundson, William, 1998. Three Anarchical Fallacies, Cambridge: Cambridge University Press.
  • ––– (ed.), 1999. The Duty to Obey the Law: Selected Philosophical Readings, Lanham, MD: Rowman & Littlefield.
  • –––, (ed.), 2004. “State of the Art: The Duty to Obey the Law,” Legal Theory, 10: 215–59.
  • –––, 2006. “The Virtue of Law-Abidance,” Philosophy Imprint, 6: 1–21.
  • Estlund, David, 2008. Democratic Authority: A Philosophical Framework, Princeton, NJ: Princeton University Press.
  • –––, 2009. “Reply to Critics,” Iyyun: The Jerusalem Philosophical Quarterly, 58: 73–88.
  • Flathman, Richard, 1972. Political Obligation, New York: Atherton Press.
  • Fossen, Thomas, 2014. “The Grammar of Political Obligation,” Politics, Philosophy, and Economics, 13: 215–236.
  • Frye, Harrison and George Klosko, 2016. “Democratic Authority and Respect for the Law,” Law and Philosophy, 36: 1–23.
  • Gans, Chaim, 1992. Philosophical Anarchism and Political Disobedience, Cambridge: Cambridge University Press.
  • Gilbert, Margaret, 1993. “Group Membership and Political Obligation,” The Monist, 76: 119–31.
  • –––, 2006. A Theory of Political Obligation, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 2013. Joint Commitment: How We Make the Social World, Oxford: Oxford University Press.
  • Gough, J. W., 1967. The Social Contract, 2nd edition, Oxford: Oxford University Press.
  • Green, Leslie, 1988. The Authority of the State, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 1996. “Who Believes in Political Obligation?,” in J. T. Sanders and J. Narveson (eds.), For and Against the State, Lanham, MD: Rowman and Littlefield, pp. 301–317.
  • Green, T. H., 1986. Lectures on the Principles of Political Obligation and Other Writings, P. Harris and J. Morrow (eds.), Cambridge: Cambridge University Press.
  • Greenawalt, Kent, 1987. Conflicts of Law and Morality, Oxford: Oxford University Press.
  • Gregory, Lucan, 2006. “Ronald Dworkin, T. H. Green, and the Communal Theory of Political Obligation,” Social Theory and Practice, 32: 191–212.
  • Hardimon, Michael, 1994. “Role Obligations,” Journal of Philosophy, 91: 333–63.
  • Hare, R. M., 1976. “Political Obligation,” in Social Ends and Political Means, T. Honderich (ed.), London: Routledge & Kegan Paul, pp. 1–12.
  • Harris, Edward, 1991. “Fighting Philosophical Anarchism with Fairness,” Columbia Law Review, 91: 919–64.
  • Harris, Paul (ed.), 1990. On Political Obligation, London: Routledge.
  • Hart, H. L. A., 1955. “Are There Any Natural Rights?” Philosophical Review, 64: 175–91.
  • –––, 1958. “Legal and Moral Obligation,” in Essays in Moral Philosophy, A. I. Melden (ed.), Seattle: University of Washington Press, pp. 82–107.
  • –––, 1982. Essays on Bentham: Studies in Jurisprudence and Political Theory, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 1994 [1961]. The Concept of Law, 2nd edition, Oxford: Oxford University Press.
  • Hartogh, Govert den, 2002. Mutual Expectations: A Conventionalist Theory of Law, The Hague: Kluwer Law International.
  • Higgins, Ruth C. A., 2004. The Moral Limits of Law: Obedience, Respect, and Legitimacy, Oxford: Oxford University Press.
  • Hirschmann, Nancy, 1992. Rethinking Obligation: A Feminist Method for Political Theory, Ithaca, NY: Cornell University Press.
  • Hobbes, Thomas, 1991 [1651]. Leviathan, R. Tuck (ed.), Cambridge: Cambridge University Press.
  • Horton, John, 1992. Political Obligation, Basingstoke: Macmillan.
  • –––, 2010. Political Obligation, 2nd edition, Basingstoke: Palgrave Macmillan.
  • Horton, John and Ryan Gabriel Windeknecht (2014). “Is There a Distinctively Associative Account of Political Obligation?” Political Studies, 63: 903–918.
  • Huemer, Michael, 2013. The Problem of Political Authority: An Examination of the Right to Coerce and the Duty to Obey, Basingstoke: Palgrave Macmillan.
  • Hume, David, 1953 [1752]. “Of the Original Contract,” in David Hume’s Political Essays, C. W. Hendel (ed.), Indianapolis: Bobbs-Merrill Co.
  • Jeske, Diane, 2001. “Special Relationships and the Problem of Political Obligation,” Social Theory and Practice, 27: 19–40.
  • Kant, Immanuel, 1991 [1797]. The Metaphysics of Morals, Mary Gregor (trans.), Cambridge: Cambridge University Press.
  • Klosko, George, 1989. “Political Obligation and Gratitude,” Philosophy and Public Affairs, 18: 352–58.
  • –––, 2004 [1992]. The Principle of Fairness and Political Obligation, 2nd edition, Lanham, MD: Rowman & Littlefield.
  • –––, 2005. Political Obligations, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 2011. “Are Political Obligations Content Independent?,” Political Theory, 39: 498–523.
  • Knowles, Dudley, 2010. Political Obligation: A Critical Introduction, London and New York: Routledge.
  • Kolodny, Niko, 2014. “Rule Over None II: Social Equality and the Justification of Democracy,” Philosophy and Public Affairs, 42: 287–336.
  • Lefkowitz, David, 2004. “The Nature of Fairness and Political Obligation: A Response to Carr,” Social Theory and Practice, 30: 1–31.
  • –––, 2005a. “A Contractualist Defense of Democratic Authority,” Ratio Juris, 18: 346–64.
  • –––, 2005b. “Legitimate Political Authority and the Duty of Those Subject to It,” Law and Philosophy, 23: 399–435.
  • –––, 2006. “The Duty to Obey the Law,” Philosophy Compass, 1: 571–98.
  • –––, 2007. “Review of Margaret Gilbert, A Theory of Political Obligation,” Notre Dame Philosophical Reviews, 6 (Internet).
  • Locke, John, 1980 [1690]. Second Treatise of Government, C. B. Macpherson (ed.), Indianapolis: Hackett Publishing Co.
  • MacDonald, Margaret, 1951. “The Language of Political Theory,” in Logic and Language, 1st series, A. G. N. Flew (ed.), Oxford: Basil Blackwell.
  • Mapel, David, 2005. “Fairness, Political Obligation, and Benefits Across Borders,” Polity, 37: 425–42.
  • Markwick, Peter, 2000. “Law and Content-Independent Reasons,” Oxford Journal of Legal Studies, 20: 579–596.
  • McConnell, Terrance, 1993. Gratitude, Philadelphia, PA: Temple University Press.
  • McDermott, Daniel, 2004. “Fair-Play Obligations,” Political Studies, 52: 216–32.
  • McIlwain, C. H., 1932. The Growth of Political Thought in the West, New York: Macmillan.
  • McPherson, Thomas, 1967. Political Obligation, London: Routledge & Kegan Paul.
  • Mokrosinska, Dorota, 2012. Rethinking Political Obligation: Moral Principles, Communal Ties, Citizenship, Basingstoke: Palgrave Macmillan.
  • Murphy, Mark, 1999. “Surrender of Judgment and the Consent Theory of Political Obligation,” Law and Philosophy, 16: 115–43; reprinted in Edmundson (ed.), The Duty to Obey the Law, Lanham, MD: Rowman & Littlefield, 1999.
  • Normore, Calvin, 2010. “Consent and the Principle of Fairness”, in Essays on Philosophy, Politics, and Economics: Integration and Common Research Projects, C. Favor, G. Gaus, and J. Lamond (eds.), Stanford, CA: Stanford University Press, pp. 225–242.
  • Nozick, Robert, 1974. Anarchy, State, and Utopia, New York: Basic Books.
  • Parekh, Bhiku, 1993. “A Misconceived Discourse on Political Obligation,” Political Studies, 41: 236–51.
  • Pateman, Carole, 1973. “Political Obligation and Conceptual Analysis,” Political Studies, 21: 199–218.
  • –––, 1979. The Problem of Political Obligation, 2nd edition, Berkeley: University of California Press.
  • Perry, Stephen R., 1989. “Second-Order Reasons, Uncertainty, and Legal Theory,” Southern California Law Review, 62: 913–94.
  • Pitkin, Hanna, 1965/66. “Obligation and Consent,” “Part One,” American Political Science Review, 59 (990–99); and “Part Two,” American Political Science Review, 60: 39–52.
  • Plamenatz, John, 1968. Consent, Freedom, and Political Obligation, 2nd edition, Oxford: Oxford University Press.
  • Plato, The Trial and Death of Socrates, 3rd edition, G. M. A. Grube (trans.), Indianapolis: Hackett, 2000.
  • Rawls, John, 1964. “Legal Obligation and the Duty of Fair Play,” in Law and Philosophy, S. Hook (ed.), New York: New York University Press, pp. 3–18.
  • –––, 1999 [1971]. A Theory of Justice, Cambridge, MA: Harvard University Press.
  • Raz, Joseph, 1979. The Authority of Law, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 1986. The Morality of Freedom, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 1999. “The Obligation to Obey: Revision and Tradition,” Notre Dame Journal of Law, Ethics, and Public Policy, 1 (1984): 139–55; reprinted in Edmundson (ed.) The Duty to Obey the Law.
  • –––, 2006. “The Problem of Authority: Revisiting the Service Conception,” Minnesota Law Review, 90: 1003–1044.
  • Renzo, Massimo, 2012. “Associative Responsibilities and Political Obligations,” Philosophical Quarterly, 62: 106–27.
  • Ripstein, Arthur, 2009. Force and Freedom: Kant’s Legal and Political Philosophy, Cambridge, MA: Harvard University Press.
  • Sanders, John T. and Jan Narveson (eds.), 1996. For and Against the State: New Essays, Lanham, MD: Rowman & Littlefield.
  • Sartorius, Rolf, 1975. Individual Conduct and Social Norms, Belmont, CA: Dickenson.
  • –––, 1981. “Political Authority and Political Obligation,” Virginia Law Review, 67 (1981); reprinted in Edmundson (ed.), The Duty to Obey the Law.
  • Scheffler, Samuel, 2001. Boundaries and Allegiances: Problems of Justice and Responsibility in Liberal Thought, Oxford: Oxford University Press.
  • –––, 2018. “Membership and Political Obligation,” Journal of Political Philosophy, 26: 3–23.
  • Sciaraffa, Stefan, 2009. “On Content-Independent Reasons: It’s Not in the Name,” Law and Philosophy, 28: 233–260.
  • Senor, Thomas, 1987. “What If There Are No Political Obligations?” Philosophy and Public Affairs, 16: 260–68.
  • Simmons, A. John, 1979. Moral Principles and Political Obligations, Princeton, NJ: Princeton University Press.
  • –––, 1987. “The Anarchist Position: A Reply to Klosko and Senor,” Philosophy and Public Affairs, 16: 269–79.
  • –––, 2001. Justification and Legitimacy: Essays on Rights and Obligations, Cambridge: Cambridge University Press.
  • –––, 2005. “The Duty to Obey and Our Natural Moral Duties,” in C. H. Wellman and A. J. Simmons, Is There a Duty to Obey the Law? Cambridge: Cambridge University Press, pp. 91–2.
  • –––, 2007. “The Particularity Problem,” APA Newsletter on Philosophy and Law, 7: 18–27.
  • –––, 2013. “Democratic Authority and the Boundary Problem,” Ratio Juris, 26: 326–57.
  • Skinner, Quentin, 1978. Foundations of Modern Political Thought, 2 vols. Cambridge: Cambridge University Press.
  • Smith, M. B. E., 1973. “Is There a Prima Facie Obligation to Obey the Law?” Yale Law Journal, 82: 950–76; reprinted in W. A. Edmundson (ed.), The Duty to Obey the Law.
  • Smith, Matthew Noah, 2013. “Political Obligation and the Self,” Philosophy and Phenomenological Research, 86: 347–75.
  • Soper, Philip, 2002. The Ethics of Deference: Learning from Law’s Morals, Cambridge: Cambridge University Press.
  • Sreenivasan, Gopal, 2009. “Oh But You Should Have: Estlund on Normative Consent,” Iyyun: The Jerusalem Philosophical Quarterly, 58: 62–72.
  • Steinberger, Peter, 2004. The Idea of the State, Cambridge: Cambridge University Press.
  • Stilz, Anna, 2009. Liberal Loyalty: Freedom, Obligation, and the State, Princeton, NJ: Princeton University Press.
  • –––, 2013. “Why Does the State Matter Morally? Political Obligation and Particularity,” in Varieties of Sovereignty and Citizenship, S. R. Ben-Porath and R. M. Smith (eds.), Philadelphia, PA: University of Pennsylvania Press, pp.244–264.
  • Tamir, Yael, 1993. Liberal Nationalism, Princeton, NJ: Princeton University Press.
  • Tosi, Justin, 2017. “Playing Fair and Following the Rules,” Journal of Moral Philosophy, 14: 134–141.
  • Valentini, Laura, 2018. “The Content-Independence of Political Obligation: What It Is and How To Test It,” Legal Theory, 24: 135–157.
  • Viehoff, Daniel, 2014. “Democratic Equality and Political Authority,” Philosophy and Public Affairs, 42: 337–375.
  • –––, 2019. “Power and Equality,” in David Sobel, Peter Vallentyne, and Steven Wall (eds.), Oxford Studies in Political Philosophy (Volume 5), Oxford: Oxford University Press, pp. 3–38.
  • Vossen, Bas van der, 2011. “Associative Political Obligations” and “Associative Political Obligations: Their Potential,” Philosophy Compass, 6/7: 477–87 and 488–96.
  • Waldron, Jeremy, 1993. “Special Ties and Natural Duties,” Philosophy and Public Affairs, 22: 3–30; reprinted in Edmundson (ed.), The Duty to Obey the Law.
  • –––, 1996. “Kant’s Legal Positivism,” Harvard Law Review, 109: 1535–66.
  • –––, 1999. Law and Disagreement, Oxford: Oxford University Press.
  • Walker, A. D. M., 1988. “Political Obligation and the Argument from Gratitude,” Philosophy and Public Affairs, 17: 191–211.
  • –––, 1989. “Obligations of Gratitude and Political Obligation,” Philosophy and Public Affairs, 18: 359–64.
  • Walton, Kevin, 2013. “The Particularities of Legitimacy: John Simmons on Political Obligation,” Ratio Juris, 26: 1–15.
  • Wellman, Christopher Heath, 1997. “Associative Allegiances and Political Obligations,” Social Theory and Practice, 23: 181–204.
  • –––, 2005. “Samaritanism and the Duty to Obey the Law,” in C. H. Wellman and A. J. Simmons, Is There a Duty to Obey the Law? Cambridge: Cambridge University Press, pp. 1–2.
  • –––, 2014. Liberal Rights and Responsibilities: Essays on Citizenship and Sovereignty, Oxford: Oxford University Press.
  • Wolff, Jonathan, 1995. “Political Obligation, Fairness and Independence,” Ratio (New Series), 8: 87–99.
  • –––, 1996. “Anarchism and Skepticism,” in J. T. Sanders and J. Narveson (eds.), For and Against the State, Lanham, MD: Rowman & Littlefield, pp. 348–360.
  • –––, 2000. “Political Obligation: A Pluralistic Approach,” in Pluralism: The Philosophy and Politics of Diversity, M. Baghamrian and A. Ingram (eds.), London: Routledge, pp.179 –96.
  • Wolff, Robert Paul, 1998 [1970]. In Defense of Anarchism, 3rd edition, Berkeley: University of California Press.
  • Zhu, Jiafeng, 2014. “Fairness, Political Obligation, and the Justificatory Gap,” Journal of Moral Philosophy, 4: 1–23.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top