علم سیاسیات کا تعارف

سماجی علوم کی کئی شاخیں ہیں۔ ان میں سیاسیات ایک اہم سماجی علم ہے۔ علم سیاسیات کے اندر مملکت کا مطالعہ کرتے ہے۔ ساتھ ہی سماجی، شہریوں اور انجمنوں کے تعلق کے علاوہ بین الاقوامی تعلقات کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔ یہ علم مملکت میں فرد کو ایک شہری بناتا ہے اور ان کی حقوق و ذمہ داریوں سے بحث کرتا ہے۔ سیاسی مفکرین کے مطابق علم سیاسیات کا تانہ بانہ قدیم یونانی شہری ریاستوں میں بُنا گیا ہے۔ ان کے مطابق تہذیبی ارتقا شہری مملکتوں میں ہوا۔ ان شہری ریاستوں میں اتھینز ، مقدونیہ ، کورنت، تھابس، اسپارٹااور میلان اہم ہیں۔ ان شہریریاستوں کو اقتدار اعلیٰ حاصل تھا۔ ان میں تمام شہری مملکت کے تمام معاملات میں سرگرمی حصہ لیا کرتے تھے۔ کیونکہ وہ تعداد میں بہت کم ہوتے تھے۔

علم سیاسیات کے تین مفکرین سقراط، افلطون اور ارسطو قدیم یونان سے تعلق رکھتے تھے۔ سقراط نے سیاسی نظریات     کو مکالموں کی صورت میں پیش کیا جو کہ تحریری صورت میں موجود نہیں ہے۔ افلاطون نے ایک منظم سیاسی فکر تیار کی اور تین درجن تحریر مکالموں کی صورت میں پیش کیا۔ جن” جمہوریہ” ان کے سب سے اہم کتاب ہے اس کے علاوہ دو مشہور کتاب”

دی لا”     اور”اسٹیٹمنٹ” ہیں۔

 

مرکزی نظریہ
  مفکر
ارسطو نے حقیقت اور سچائی سے قریب تر “حقیقت پسند” نظریہ پیش کیا۔ اپنی کتابدی پولیٹکسمیں سیاسی افکار کا اظہار کیا، اسی لیے انہیں “سیاسیات کا بانی” کہا جاتا ہے۔ارسطو 
عہدِ وسطیٰ میں، اس نے اپنی کتاب “دی پرنس “کے ذریعے سیاسیات کے مطالعے میں ایک نئی جہت شامل کی۔ اس نے طاقت، ریاست، اور عملی سیاست کو مذہب سے الگ کر کے سمجھایا۔میکاولی
منو نے بتایا کہ ابتدا میں کوئی بادشاہ نہیں تھا، عوام مصیبتوں میں گرفتار تھے، لہٰذا دیوتا نے ان کی حفاظت کے لیے بادشاہ پیدا کیا۔ اس کا نظریہ حکومت کی ذمہ داریوں پر ہے، ریاست کی تخلیق پر نہیں۔منو
ارتھ شاسترمیں کوٹلیہ نے سیاسیات کو مذہبی حدود سے آزاد کر کے ایک خودمختار علم کے طور پر پیش کیا۔ اس نے حکومت، نظم و نسق، اور اقتصادیات کے اصول وضع کیے۔کوٹلیہ

علم سیاسیات کےمعنی و تعریفات

پولیٹکس گریک لفظ پولس سے نکلا ہے اور پولس کے معنی شہری ریاست کے ہیں۔ پولیٹکس کا مطلب یونانیوں کے مطابق شہری ریاست اور اس کی انتظامیہ کا عملی اور فلسفیانہ مطالعہ ہے۔ یونانیوں کے نزدیک شہر ریاستی اور اس کا موضوع شہری ریاست اور اس کے مسائل سے نمٹنا تھا اسی کو وہ سیاست کہتے تھے۔ سیاست کی اصطلاح 20 ویں صدی کی پیداوار ہے۔ لیکن اس سے پہلے سیاسیات کو مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا۔ ارسطو نے اسے ”سیاست” گیٹل نے ”ریاست کی سائنس” سر فریڈرک پولاک نے ”سیاست کی سائنس” کہا ہے۔ ان مختلف اور مبہم اصطلاحات کی جگہ پروفیسر ڈبلیو جے ایم میک انزی نے پولیٹیکل سائنس کی اصطلاح استعمال کرنے کی صلاح دی۔ اب پوری دنیا میں سیاسیات کے لئے یہی اصطلاح عام ہے۔

 علم سیاسیات کو 1895 میں لندن سکول آف اکنامکس کے قیام کے بعد بحیثیت علمی موضوع شہرت حاصل ہوئی۔1948 میں دنیا بھر کے نامور سائنس داں پیرس کے یونیسکو ہاؤس میں جمع ہوئے اور انہوں نے ”سیاسی سائنس” (پولیٹیکل سائنس) کی اصطلاح کو سیاسیات کے مطالعے کے لئے قبول کرلیا۔ لیکن سیاسیات کی وسعت پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے سیاسیات کے موضوع کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ تاکہ نظم و ضبط کے علم کو وسعت دینے کے ساتھ ہی مہارت کو فروغ دیا جاسکے۔

(Political Theory) ٭                                            سیاسی نظریہ

(Political Institution) ٭                                                          سیاسی ادارے

  (Political Parties) ٭                                                 سیاسی جماعتیں

(Internatinoal Relations) ٭                                                بین الاقوامی تعلقات

اسی طرح 28 اور 29 دسمبر 1965 کو فلاڈیلفیا میں امریکن اکیڈمی آف پولیٹکل سائنس کے زیر اہتمام معروف ماہر سیاسیات جن میں ڈیوڈ ایسٹن، ہیری ایکسٹائین، مورگنتھاؤ، نارمن ڈی پالمر وغیرہ جمع ہوئے تھے انہوں نے پولیٹیکل سائنس کی وسعت، مقاصد اور طریقہ کار کے نظم و ضبط کے لئے ایک درست اور واضح نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی۔انیس ویں صدی کے آخر میں علم سیاسیات نے پروفیسر ہیرلڈ لاسکی کی وجہ سے ایک تجرباتی مضمون کی شکل اختیار کرلی۔ 

علم سیاسیات کی تعریفیں

سیاسی مفکرین نے علم سیاسیات کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

٭               روایتی تعریفات
٭                    جدید تعریفات

ان کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

:روایتی تعریفات
روایتی تعریفات حکومت اور ریاست کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں اداروں اور اصولوں پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ریاست کی تنظیم، بنیادی اصولوں اور افعال کا جائزہ لیتے ہیں۔

:پال جنیٹ
“پولیٹیکل سائنس وہ سائنس ہے جو ریاست کی بنیادوں اور حکمرانی کے اصولوں سے متعلق ہے۔”
”سیاسیات معاشرتی علوم کا وہ حصہ ہے جو ریاست کی بنیادوں اور حکمرانی کے اصولوں سے متعلق ہے۔”

:بلانتشلی
“پولیٹیکل سائنس وہ علم ہے جو ریاست سے متعلق ہے، جو ریاست کی اصل فطرت، اس کی مختلف شکلوں اور اس کی ترقی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔”
”سیاسیات وہ علم ہے جو ریاست سے متعلق ہے۔ جو ریاست کی اصل فطرت، اس کی مختلف شکلوں اور اس کی ترقی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔”

:گارنر
“پولیٹیکل سائنس ریاست سے شروع ہوتی اور ریاست پر ختم ہوتی ہے۔ اسے ماضی، حال اور مستقبل میں ریاست کے مطالعے کے طور پر تعریف دی جا سکتی ہے۔”
”علم سیاسیات ریاست سے شروع ہوتی اور ریاست پر ختم ہوتی ہے۔”

:جدید تعریفات
جدید سیاسی مفکرین کے مطابق قدیم تعریفیں محدود ہیں اور ان کا طریقہ کار قانونی اور ادارہ جاتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پولیٹیکل انسٹیٹیوشن کے بجائے پولیٹیکل پروسیس پر غور کیا جانے لگا۔ رویہ جاتی پن کے آغاز سے علم سیاسیات کے مطالعہ میں تبدیلی پیدا ہوئی۔ اس طریقے میں پولیٹیکل بھیویر کو اہمیت دی گئی۔ جدید مفکرین سیاسیات کو پالیسی سائنس کہتے ہیں اور طاقت کے عنصر پر زور دیتے ہیں۔

:رابرٹ ڈال
“پولیٹیکل سائنس تعلقات، عمل اور اداروں میں طاقت کا منظم مطالعہ ہے۔”
”علم سیاسیات تعلقات، عمل اور اداروں میں طاقت کا منظم مطالعہ ہے۔”

رابرٹ ڈال سیاسی تعاملات اور اداروں میں طاقت کے کردار اور اس کے اثر و رسوخ کو نمایاں کرتا ہے۔

:ہیرلڈ لاسویل
“پولیٹیکل سائنس معاشرے کی تشکیل میں طاقت کے کردار کا مطالعہ ہے، خاص طور پر فیصلہ سازی، قیادت اور وسائل کی تقسیم کے لحاظ سے۔”
”علم سیاسیات معاشرے کی تشکیل میں طاقت کے کردار کا مطالعہ ہے، خاص طور پر فیصلہ سازی، قیادت اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے۔”

:موریس گنگ برگ
“پولیٹیکل سائنس اداروں، طریقہ کار اور نارمز کا مطالعہ ہے جو ریاست کے کام کاج اور شہریوں کے ساتھ تعاملات کی وضاحت کرتا ہے۔”
”علم سیاسیات اداروں، طریقہ کار اور اصولوں کا مطالعہ ہے جو ریاست کے کام کاج اور شہریوں کے ساتھ میل جول کی وضاحت کرتا ہے۔”

 

علم سیاسیات کی نوعیت

انسان فطرتاً سماجی مخلوق ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے اور تنہائی میں زندگی گزارنے سے قاصر ہے۔ اسی لیے ارسطو نے انسان کو “سماجی حیوان” کہا۔ ارسطو کے مطابق جو شخص معاشرے میں رہنے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا جسے معاشرے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، وہ یا تو حیوان ہے یا خدا۔

تھامس ہابس کے نزدیک انسان اگرچہ سماجی ہے لیکن وہ خود غرض، انا پرست اور جھگڑالو بھی ہے۔ وہ دوسروں پر برتری حاصل کرنے اور ان کی سرگرمیوں کو اپنے مفاد میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی رویہ معاشرے میں ٹکراؤ اور فساد کا باعث بنتا ہے۔ اس فساد کو روکنے اور کمزور طبقے کے حقوق کی حفاظت کے لیے انسان نے ایک سیاسی تنظیم قائم کی تاکہ قوانین و ضوابط کے ذریعے نظمِ اجتماعی کو قائم رکھا جا سکے۔
جان لاک نے انسان کو ایک عقلی اور معاون وجود قرار دیا جو دوسروں کے ساتھ تعاون اور تحفظ کا جذبہ رکھتا ہے۔ جب کہ روسو کے مطابق ابتدائی حالتِ فطرت میں انسان سادہ، خوش اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والا تھا۔ اسی فطری خیرخواہی کے باعث اُس کے درمیان مساوات اور امن قائم تھا۔منو کا نظریہ اس سے مختلف ہے۔ وہ انسان کو فطرتاً کمزور اور اخلاقی طور پر گرا ہوا سمجھتا ہے۔
ماہرین سیاسیات
کوٹلیہ کے مطابق جب حالات بگڑنے لگے اور معاشرہ انتشار کا شکار ہوا تو لوگوں نے ایک معاہدہ کیا جس کے تحت ایک منظم ریاست کی بنیاد رکھی گئی تاکہ نظامِ زندگی کو قائم رکھا جا سکے۔نتیجتاً، انسان اپنی فطرت کے مطابق معاشرے میں رہنا پسند کرتا ہے۔ یہی میل جول خاندانوں اور قوموں کی بنیاد بنتا ہے۔ چونکہ ہر شخص کی خواہشات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے ان کے درمیان توازن قائم رکھنے اور انصاف مہیا کرنے کے لیے ریاست کی ضرورت پیش آتی ہے جو ان کی ضروریات کو منظم کرے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرے۔
 

علم سیاسیات کی وسعت

علمِ سیاسیات کی وسعت یا دائرہ کار سے مراد یہ ہے کہ اس علم میں کن موضوعات اور امور کو شامل کیا جاتا ہے۔ جس طرح سیاسیات کی تعریفات میں مختلف مفکرین کا اختلاف ہے، ویسے ہی اس کے دائرہ کار پر بھی رائے میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ اس بحث کے حل کے لیے سیاسی مفکرین کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

 ٭              ریاست تک محدود

اس گروہ کے مفکرین سیاسیات کو صرف ریاست تک محدود سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک علمِ سیاسیات کا دائرہ صرف ریاست کی تشکیل، اس کے بنیادی عناصر و اداروں اور اس کے اغراض و مقاصد تک محدود رہتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے نمایاں مفکرین میں فَرینک گڈنو، ایچ جے جیمز، بلنتشلی، گیریس اور جے ڈبلیو گارنر شامل ہیں۔

٭             حکومت تک محدود

دوسرا گروہ سیاسیات کو صرف حکومت کے مطالعہ تک محدود رکھتا ہے۔ یہ مفکرین ریاست کے بجائے حکومت کے ڈھانچے، فرائض، اختیارات اور حکومتی سرگرمیوں پر زور دیتے ہیں۔ اس گروہ میں اسٹیفن لیکوک، کارل ڈوئچ         اور جان سیلے سمیت کئی مفکرین شامل ہیں۔

 ٭                                     ریاست + حکومت

تیسرا اور وسیع تر گروہ سیاسیات کو ریاست اور حکومت دونوں کے مطالعہ تک وسیع سمجھتا ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق علمِ سیاسیات ریاست اور حکومت کے باہمی تعلقات، دونوں کی ساخت اور فعالیت کو شامل کرتا ہے۔ اس گروہ کے ممتاز مفکرین میں ہارڈڈ جے لاسکی، گارفیلڈ گیٹل اور گلکرسٹ شامل ہیں۔

(1) State

(2) Government (3) State + Govt

Frank Goodnow

H.J. James

Bluntschli

Garries

J.W. Garner

Stephen Leacok

Karl Deutsche

John Seelay

Robson

=

Harddd J. Laski

Garfield Gettell

Gilchrist

مندرجہ بالا مفکرین میں سے ہر ایک نے علمِ سیاسیات کی وسعت کے بارے میں جداگانہ نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اس موضوع پر مختلف آراء کی وجہ سے اب تک سیاسیات کی وسعت پر کوئی حتمی اور مشترکہ رائے قائم نہیں ہو سکی۔

:سیاسیات کی وسعت اور دائرہ کار پر اہم سیاسی مفکرین کے نظریات مندرجہ ذیل ہیں

گڈنو کا نظریہ

گڈنو نے سیاست اور انتظامیہ کو دو الگ الگ ریاستی افعال قرار دیا۔ اس کے مطابق حکومت کی اصل طاقت دو حصوں میں تقسیم ہے: قانون سازی (پالیسی سازی) اور اس کا نفاذ (انتظامیہ)۔ اس کی رائے میں تین حصوں کی تقسیم (مقنّنہ، عاملہ، عدلیہ) عملی طور پر غیر موثر ہے۔ اس کے بجائے سیاسیات میں زیادہ اہمیت سیاست اور انتظامیہ کی جدائی کو دی جانی چاہئے تاکہ حکومت کا نظم موثر ہو۔

                لاسکی کا نظریہ

لاسکی نے ریاستی خودمختاری کے مرکزانہ یا مونسٹک تصور سے اختلاف کیا اور فرد کی آزادی کو سب سے اہم قرار دیا۔ اس نے سیاسی اداروں کی مطابقت کو فرد اور گروہ کی منفرد شخصیت سے جوڑا۔ لاسکی کے مطابق ریاست کو اتنا منظم ہونا چاہئے کہ فرد اپنی تخلیقی صلاحیت اور رجحانات کو آزادی سے بروئے کار لا سکے۔ اس نے کلاسیکی نظریات (ارسطو، ہابس، میکیاویلی) پر تنقید کی کہ وہ انسان کی فطرت کو جامد سمجھتے ہیں، جبکہ وہ اسے متحرک اور ارتقائی مانتا ہے۔

  بلنتشلی کا نظریہ

بلنتشلی کے نزدیک نظریۂ ریاست میں سرکاری قانون (پبلک لاء) اور سیاست سمیت ریاست کو ایک کلی وجود (پرسنالیٹی) مانا گیا ہے، جس کا مقصد قوم کی صلاحیتوں کی نشوونما اور تکمیل ہے۔ اس نے ریاست کو مخصوص اظہارِ ارادہ، تنظیمی عناصر (عوام، زمین)، اور مختلف مراحلِ ارتقاء کے تناظر میں دیکھا۔ بلنتشلی کے مطابق ریاست کی اصل ذمہ داری عوام کی فلاح اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہے۔

سیاسیات کی وسعت پر منتخب مفکرین کے نظریات

نظریہ اور دائرہ کارمفکر
حکومت کو دو بڑے حصوں، سیاست اور انتظامیہ میں تقسیم کرتا ہےFrank Goodnow
فرد اور سوسائٹی کی آزادی پر زور، ریاستی طاقت پر تنقید کرتا ہےH.J. Laski
ریاست کو “شخصیت” مانتا ہے، اور عوام کی صلاحیتوں کی نشوونما کو مقصد بتاتا ہےBluntschli

جدید ماہرین علم سیاسیات کی وسعت میں اضافہ کرتے  ہوئے نئی چیزوں کو شامل کیا مثلاً ان عوامل کا مطالعہ جو حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے انسانی رویے پر زور دیا۔ دوسرے نئے مضامین جیسے۔

(Gender)٭                                   صنف

(Sex)٭                           جنس

(Class)٭                  طبقہ

(Group)٭  گروہ

(Environment)٭   ماحولیات

   (Human Rights)٭      انسانی حقوق

          وغیرہ کو علم سیاسیات کے دائرہ مطالعہ میں لانے کی وکالت کی ہے۔1948 میں یو این سی ایس سی او  نے علم سیاسیات کی وسعت کو متعین کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی کمیٹی کے رپورٹ کے مطابق علم سیاسیات کی وسعت مندرجہ ذیل ہیں۔

(1)۔   Political Theory         (2)۔   Government

(3)۔   Parties & Group         (4)۔   International Relations

(5)۔   International Law       (6)۔   Inter-Organization

(7)۔   Political Opinion

         علم سیاسیات کی وسعت کو پڑھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ قدیم مفکرین نے ’’سیاست‘‘ اور علم سیاسیات میں فرق نہیں کیا تھا۔

         جدید مفکرین کا ماننا ہے کہ “پولیٹکس”(سیاست) عملی سیاست کو کہتے ہیں۔ جبکہ “پول سائنس”(علم سیاسیات) حکومت کو کن اصولوں کے تحت کام کرنا چاہئے،   سماج میں انصاف، مساوات کیسے قائم کیا جائے ان سب کی رہنمائی کرتا ہے۔

علم سیاسیات کی اہمیت

         علمِ سیاسیات کی اہمیت بہت وسیع اور متنوع ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ریاست، حکومت اور سیاست بلکہ معاشرتی، معاشی، تہذیبی اور بین الاقوامی امور تک بھی محیط ہے۔

٭        مہذب معاشرتی وجود کے قیام کے لیے بنیادی علم فراہم کرتا ہے

٭حقوق و فرائض کی پہچان اور علم دیتا ہے، جس سے فرد اپنی ذمہ داریوں سے باخبر رہتا ہے

٭شہری، سیاسی، اور معاشرتی شعور کو فروغ دیتا ہے

٭نظریات اور فلسفوں کی تفہیم میں مددگار ہے، جس سے قومی اور عالمی سطح پر سیاسی سوچ میں وسعت آتی ہے

٭سیاسی رہنماؤں اور بیوروکریٹس کی تربیت و رہنمائی کرتا ہے

٭حکومت اور نظم و نسق کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی دیتا ہے

٭عالمی امور اور بین الاقوامی تنظیموں کی فعالیت کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے​

٭سیاسی اداروں کے کردار، مسائل اور حل کے بارے میں علمی بنیاد فراہم کرتا ہے

٭فرد اور ریاست کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے، معاشرتی ترقی کے لیے راہیں ہموار کرتا ہے

بنیادی مقصد

علم سیاسیات کا اصل مقصد ریاست کی ابتدا، ارتقا، ساخت، اور فرائض کے متعلق صحیح معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ فرد سیاسی مسائل اور اداروں کی نوعیت سمجھ سکے. اس علم سے نہ صرف ۔سیاسی مسائل کا شعور جنم لیتا ہے بلکہ سماجی بیداری اور ذمہ داری کے احساس کو بڑھایا جا سکتا ہے۔

اگر مزید مثالیں یا تفصیل درکار ہو تو بتایا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top