علم سیاسیات کا دوسرے سماجی علوم سے تعلق : علم سیاسیات کو ارسطو نے ’’ماسٹر سائنس‘‘ کہا ہے کیونکہ یہ انسانوں سے متعلق ہے اور انسان ایک سماجی جانور ہے۔ اس لئے علم سیاسیات ایک سماجی سائنس ہے اور اسکا تعلق دوسرے سماجی علوم سے بہت گہرا ہے ۔ کیونکہ سماجی زندگی میں سیاسی، مذہبی، معاشی اور اخلاقیات جیسے کئ اہم پہلو ہیں۔ اور یہ پہلو جنہیں ہم مختلف سماجی علوم کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً تاریخ، سیاسیات، معاشیات، سماجیات، نفسیات، اقتصادیات وغیرہ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ علم سیاسیات کا تعلق انسان کی سماجی زندگی کے سیاسی پہلو سے ہے لیکن معاشی حالت سیاسی حالت کو متاثر کرتی ہے۔ اس لئے انسان کے سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ دوسرے سماجی علوم سے تعلق ہے خواہ وہ معاشی، سیاسی، نفسیاتی یا تاریخی ہو۔ اس لئے علم سیاسیات کو ایک سماجی سائنس کی حیثیت دوسرے سماجی علوم سے مکمل طور پر الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر گانر کے مطابق ’’تمام متعلقہ مضامین کے علم کے بغیر علم سیاسیات کو سمجھنا مشکل ہے ۔ جیسا کہ علم کیمیات کے بغیر علم حیاتیات کو سمجھنا مشکل ہے۔ ‘‘
اٹھارویں صدی تک علم سیاسیات کی تخصص(اسپیشلائزیشن) موجود نہیں تھی۔ اور سماجی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ ایک ہی اصول / نظم کے ضمن میں کیا جاتا تھا جسے ’’اخلاقی فلسفہ‘‘کہا جاتا ہے۔ لپ سیٹ کے مطابق 18 ویں صدی تک اخلاقی علوم، جو اس وقت سماجی علوم
کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تنوع سے زیادہ وحدت کے مالک تھے۔
انیسویں صدی میں صنعت کاری کے آغاز کے ساتھ ہی سماجی علوم کی تحصیص بھی ہونے لگی۔ اور پیچیدہ سماجی رجحان کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کرنا سیاسیات کے دائرہ سے باہر ہوگیا۔ علم سیاسیات حکومت اور طاقت پر زور دیتا ہے اور یہی چیز علم سیاسیات کو ایک تعلیمی نظم کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔ لیکن حکومت اور طاقت کا مطالعہ دوسری سماجی علوم میں بھی کیا جاتا ہے۔ اس لئے اسکا دوسرے سماجی علوم کے ساتھ وابستگی اور سماجی علوم میں مطالعہ کی نشو و نما ہوتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد سیاسی سائنس میں تجزیاتی نظریہ کی ترقی ہوئی اور اس میں حکومت اور طاقت کے بجائے سیاسی رویے کے مطالعے کی طرف توجہ دی جانے لگی۔ سیاسی مظاہر اور طرز عمل کے مطالعہ کے لئے سائنسی طریقوں کا یہی ایک ذریعہ تھا۔ جس نے علم سیاسیات بین الضابطہ مطالعے کی ضرورت پیش کی۔
علمِ سیاسیات کا سماجیات سے تعلق
سماجیات وہ علم ہے جو انسانوں اور ان کے سماجی تعلقات کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ سیاسیات انسانوں کی سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔ سیاسی سرگرمیاں انسانی سماجی زندگی کو متاثر کرتی ہیں اور خود بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ چنانچہ سماجیات انسانی زندگی کے سماجی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی رخ کا بھی جائزہ لیتی ہے۔ دونوں علوم روزمرہ کے مختلف مسائل، معاملات اور اُمور سے وابستہ سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے حکمرانی، سول سوسائٹی، سماجی طبقہ اور سماجی سرمایہ، گروہی تعلقات، قوت کا اشتراک، شراکتی جمہوریت، اور حکومتی پالیسیوں کا عمل وغیرہ۔
معاشرے کے مکمل مطالعے کے لیے سیاسی زندگی کا جائزہ ناگزیر ہے، اسی بنا پر سماجیات کئی پہلوؤں سے سیاسیات پر انحصار کرتی ہے۔ مملکت اور حکومت معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے قوانین بناتی ہیں، جو سماجی رسم و رواج اور روایات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ماضی میں سیاسی نظریات میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں، ان میں زیادہ تر سماجی علوم کے اثرات نمایاں ہیں۔
دونوں کے چند امتیازی پہلو درج ذیل ہیں:
٭ سماجیات کا دائرہ کار سیاسیات سے زیادہ وسیع ہے، لیکن وہ اس سے غیر متعلق نہیں۔
٭ سماجیات تمام سماجی تعلقات کا عمومی مطالعہ کرتی ہے، جبکہ سیاسیات صرف سماجی تعلقات کے سیاسی پہلو پر توجہ دیتی ہے۔
٭ سماجیات منظم اور غیر منظم دونوں معاشروں کا مطالعہ کرتی ہے، جب کہ سیاسیات صرف سیاسی طور پر منظم معاشروں سے وابستہ ہے۔
٭ سماجیات معاشرے کے مجموعی ڈھانچے کا مطالعہ کرتی ہے، جب کہ سیاسیات معاشرے کی سیاسی تنظیم یا ریاستی اکائی سے تعلق رکھتی ہے۔
علمِ سیاسیات کا تار یخ سے تعلق
علمِ سیاسیات اور تاریخ کا باہمی تعلق نہایت گہرا اور اہم ہے۔ دونوں علوم انسانی معاشروں، حکمرانی، طاقت اور فیصلہ سازی سے متعلق ہیں، مگر ان موضوعات کو الگ زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ علمِ سیاسیات میں سیاسی نظام، سیاسی رویے، طاقت کے ڈھانچے، حکمرانی، پالیسیوں اور سیاسی نظریات کا مطالعہ شامل ہے۔ کسی بھی سیاسی نظام اور اس کی ارتقاء کو سمجھنے کے لیے تاریخی تناظر انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ سیاسی مفکرین ماضی کے واقعات، قائدین، اداروں اور نظریات کی تحقیق کے ذریعے موجودہ سیاسی نظاموں اور رجحانات کو سیاق و سباق میں واضح کرتے ہیں۔
تاریخ وہ بنیادی خام مال فراہم کرتی ہے جو سیاسی مفکرین کو سیاسی نظام کو سمجھنے اور تشکیل دینے میں مدد دیتی ہے۔ تاریخ اور علمِ سیاسیات دونوں ہی سیاسی واقعات کے پس پردہ اسباب اور نمونوں کی نشاندہی کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ تاریخ زیادہ تر واقعات نگاری اور ان کے اثرات کی توضیح پر مشتمل ہے، مگر علمِ سیاسیات ایسے عمومی اصول بناتا ہے جو سیاسی نظاموں اور نظریات کی کارکردگی کی وضاحت کرتے ہیں۔ سیاسی مفکرین تاریخی واقعات کو سیاسی نظریات کی جانچ اور توثیق کے لیے استعمال کرتے ہیں، جب کہ مورخین سیاسی نظریات کو تاریخی واقعات کے تجزیاتی زاویہ پر لاگو کرتے ہیں۔
علمِ سیاسیات کامعاشیات سے تعلق
علمِ سیاسیات اور معاشیات کا تعلق بھی باہمی طور پر اہم ہے۔ دونوں علوم دولت، وسائل اور طاقت کے انتظام، تقسیم اور استعمال کے مطالعہ پر مرکوز ہیں۔ علمِ سیاسیات میں حکومتوں، سیاسی جماعتوں اور مفاد پرست گروہوں کے فیصلوں، پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ معاشی پالیسیاں جیسے مالیات، ٹیکس، حکومتی اخراجات، اور سماجی پروگراموں کے بارے میں فیصلہ جات براہ راست معیشت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہ سیاسی فیصلے بعض اوقات نظریات اور طاقت کے ڈھانچے سے متاثر ہوتے ہیں۔
معاشیات ان سیاسی فیصلوں کے اثرات اور نتائج کو سمجھنے کے لیے عملی اوزار اور طریقے فراہم کرتی ہے، جیسے ٹیکس یا سرکاری اخراجات میں تبدیلی، معاشی ترقی، روزگار کے مواقع، اور دولت کی تقسیم۔ مثال کے طور پر، اگر حکومت تعلیم یا صحت جیسے شعبہ جات میں فنڈنگ بڑھاتی ہے، تو معاشیات ان اقدامات کے روزگار اور مجموعی اقتصادی ترقی پر اثرات کا تجزیہ کرتی ہے۔ سیاسیات اور معاشیات کا آپس میں تعلق بین الاقوامی تجارت، اقتصادی تعلقات اور عالمی معاشی پالیسیاں جیسے شعبہ جات تک وسیع ہے۔ سیاسی مفکرین حکومتی تجارت، تجارتی معاہدوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعلقات کا مطالعہ کرتے ہیں، جب کہ معاشیات اس کے معاشی اثرات کی توضیح کرتی ہے۔